اندور،03؍نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور اندور ضلع کے مہو علاقے کے ممبر اسمبلی کیلاش وجے ورگی کو آج مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی۔ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے سال 2013 کے انتخابات میں رکن اسمبلی کے طور پر ان کے الیکشن کو صفر نامز کرنے کا مطالبہ والی درخواست مسترد کر دی۔جسٹس آلوک ورما نے وجے ورگی کے قریب ترین انتخابی مخالف اور کانگریس امیدوار اننترسنگھ دربار کی جانب سے دائر درخواست کو نامنظور کرنے کا فیصلہ سنایا۔عدالت نے ستمبر میں اس معاملے کی سماعت مکمل کر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔دربار نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ وجے ورگی نے مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بدعنوان طریقوں سے انتخابات جیتا تھا۔لہٰذا مہو کے ممبر اسمبلی کے طور پر چار سال پہلے کے ان انتخاب کو صفر قرار دے دیا جائے۔
شکست خوردہ کانگریس امیدوار نے اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ وجے ورگی نے انتخابی مہم کے دوران ووٹروں کو لبھانے کے لیے خواتین کو نوٹ تقسیم کئے اور محرم کے جلوس میں میڈل، ٹافیاں بانٹی ان پر الزام یہ ہے کہ انتخابات کے دوران بی جے پی امیدوار کے نمائندے کی جانب سے ووٹروں کو شراب تقسیم کی تھی۔وجے ورگی کے وکیل شیکھر بھارگو نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف دربار کی جانب سے لگائے گئے الزام عدالت میں ثابت نہیں ہو سکے۔سورت میں تقریبا100 تاریخوں پر سماعت ہوئی۔ وجے ورگی نے سال 2013 کے اسمبلی انتخابات میں دربار کو 12،216 ووٹ سے شکست دی تھی۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اندور ضلع کی مختلف سیٹوں سے مسلسل چھ بار اسمبلی انتخابات جیت کر ناقابل تسخیر رہنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سال 2008 کے اسمبلی انتخابات میں بھی وجے ورگی اور دربار مہو علاقے میں ہی آمنے سامنے تھے۔ان انتخابات میں وجے ورگی نے دربار کو 9،791 ووٹوں سے شکست دی تھی۔